حیدرآباد،31؍ اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایک کہاوت ہے ’جاکے راکھو سائیا مار سکے نہ کوئی‘یعنی کہ جس کا کفیل خود اوپر والا ہو اس کا کوئی بال بھی بانکا نہیں کر سکتا۔ایسا ہی کچھ واقعہ تلنگانہ کے ایک شخص کے ساتھ ہوا ہے، جس کی جان اس وقت بال بال بچ گئی جب وہ کھانا کھانے کے لئے گیا ہوا تھا۔دراصل ایک پائلٹ رہائشی علاقے میں زمین سے کچھ اوپر ہی ہوائی جہاز اڑا رہا تھا کہ اچانک جہاز کا ایک دروازہ ایک گھر کی چھت پر گر گیا۔معاملہ تلنگانہ کے سکندرآباد کا ہے۔جس چھت پر ہوائی جہاز کا دروازہ گرا اس گھر کے مالک گنیش یادو کا کہنا ہے کہ حادثے میں ایک پینٹر کی جان جا سکتی تھی۔حادثے سے تھوڑی دیر پہلے تک وہ پینٹر چھت پر کام کر رہا تھا۔ جس وقت دروازہ چھت پر گرا اس سے کچھ سیکنڈ پہلے وہ لنچ کرنے کے لئے گھر کے اندر چلا گیا تھا۔تلنگانہ اسٹیٹ ایوی ایشن اکیڈمی کا یہ جہاز تربیتی پرواز پر تھا اور وہ زمین سے ڈھائی ہزار فٹ کی اونچائی پر پرواز کر رہا تھا۔ہوائی جہاز میں پائلٹ اور ایک ٹرینی سوار تھے۔آپ کو بتا دیں کہ حیدرآباد کے لالاپیٹ علاقے میں اکثر ایسے طیارہ رونما ہوتے رہتے ہیں جو زمین سے کچھ ہی اوپر ہوتے ہیں۔دراصل یہاں روزانہ ہوائی جہاز ٹریننگ کے مقصد سے دن میں کئی بار پرواز بھرتے ہیں۔وہیں ڈائرکٹر جنرل آف سول ڈی ڈی سی اے نے حادثے کو لے کر تحقیقات شروع کر دی ہے۔حادثے کے بعد طیارہ کا ٹوٹا ہوا دروازہ کئی گھنٹوں تک پولیس اسٹیشن میں موجود تھا۔بعد میں افسر اسے اپنے ساتھ لے گئے۔غور طلب ہے کہ 28 ستمبر کو انڈین ایئر فورس کا ٹرینی ہوائی جہاز بھی اسی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔حادثے میں تینوں پائلٹ بچ گئے تھے۔